![]() |
| بھوک کبھی کبھی روٹی نہیں مانگتی، انسان کا ضمیر مانگتی ہے۔ |
مرکزی خیال:
غربت انسان کو جرم کے دروازے تک لے جا سکتی ہے، مگر اصل المیہ یہ ہے کہ ضرورت مند لوگ اکثر طاقتور اور سفاک ذہنوں کے ہاتھوں استعمال ہو جاتے ہیں۔ افسانہ بھوک، استحصال، اخلاقی کشمکش اور دہشت کی صنعت کے انسانی شکاروں کو موضوع بناتا ہے۔
(1)
رات کا آخری پہر تھا۔ فٹ پاتھ پر
بکھرے جسم کمبلوں اور بوریوں میں لپٹے سو رہے تھے۔ کوئی کروٹ بدلتا، کوئی خراٹے
لیتا، کوئی خواب میں جانے کس دنیا کی سیر کر رہا تھا۔ مگر وہ جاگ رہا تھا۔ آنکھیں
کھلی تھیں اور نگاہیں آسمان کے اس حصے میں گڑی ہوئی تھیں جہاں رات اور صبح کے درمیان
ایک مدھم سی دراڑ پڑنے لگی تھی۔
نیند اس سے دو ہفتے پہلے ہی روٹھ گئی
تھی۔
دو ہفتے... شہر کی خاک چھانتے،
دروازے کھٹکھٹاتے، مستریوں، ٹھیکیداروں اور مزدور منڈیوں کے چکر لگاتے گزر گئے
تھے۔ ہر جگہ ایک ہی نظر اس کے لنگڑاتے قدم پر پڑتی اور جواب مل جاتا۔
"تم سے
نہیں ہو پائے گا۔"
وہ خاموش لوٹ آتا۔
گاؤں میں اس کی ماں تھی۔ ایک جھریوں
بھرا چہرہ، جو ہر شام دروازے کی چوکھٹ پر بیٹھ کر راستہ دیکھتا تھا۔ ایک عورت جس
نے بیوگی، غربت اور بیماری تینوں سے لڑ کر اسے زندگی دی تھی۔ بچپن میں جب اس کی
ٹانگ نے جواب دے دیا تھا تو اس عورت نے اپنی ہڈیاں جلا کر علاج کروایا تھا۔
اب وہ پہلی بار اس کا سہارا بننے
نکلا تھا۔اور ناکام ہو گیا تھا۔
بھوک جب کئی دنوں تک ساتھ رہے تو
پہلے معدہ خالی ہوتا ہے، پھر امید، پھر شرم۔
خودکشی کا خیال بھی آیا تھا۔
مگر ہر بار ماں کا چہرہ درمیان میں آ
کھڑا ہوتا۔
صبحِ کاذب کی سفیدی آسمان پر پھیل
رہی تھی۔ سڑک کنارے کھمبوں پر لگی ٹیوب لائٹیں ابھی تک جل رہی تھیں۔ وہ نیم دراز
حالت میں پڑا تھا کہ اچانک اس کی نظر ایک بوڑھے آدمی پر جا ٹھہری۔
عجیب آدمی تھا۔لمبا، چوڑا، مضبوط۔سفید
مونچھیں کمان کی طرح تراشی ہوئی تھیں۔ سر کے بال مختصر مگر چاندی کی طرح سفید۔
دونوں ہاتھوں میں سامان سے بھرے تھیلے تھے، لیکن قدم ایسے اٹھ رہے تھے جیسے عمر نے
اس پر ابھی تک ہاتھ نہ رکھا ہو۔
تھیلوں سے سیب جھانک رہے تھے۔ایک ڈبے
میں شاید انڈے تھے۔اور شاید تازہ روٹیاں بھی۔ اس کے معدے میں اینٹھن سی اٹھی۔بھوک
نے سوچنے کی مہلت نہ دی۔ خیال آیا، اگر یہ سامان چھین لوں؟ بوڑھا کیا کر لے گا؟ چند
لمحوں بعد وہ اس کے پیچھے چل رہا تھا۔پھر ایک سنسان گلی آئی۔ دل دھڑک رہا تھا۔ ہاتھ
کانپ رہے تھے۔ مگر بھوک خوف سے بڑی تھی۔ وہ لپکا، تھیلے جھپٹے اور بھاگ نکلا۔صرف
چند قدم۔اس کے بعد ایک آہنی گرفت اس کے کندھے پر پڑی۔دنیا رک گئی۔ بوڑھے نے اسے
گھما کر اپنے سامنے کر لیا۔
اس کی نظریں زمین میں گڑ گئیں۔شرمندگی
اور خوف ایک ساتھ جسم میں دوڑ گئے۔کچھ لمحے خاموشی رہی۔پھر بوڑھے نے پوچھا: "کب سے یہ کام
کر رہے ہو؟"
"اللہ کی
قسم... میں چور نہیں ہوں۔"
"تو پھر
آج مشق کر رہے تھے؟"
اس کے ہونٹ لرزے۔"میں بھوکا ہوں، صاحب۔"یہ کہتے ہی اس کی آواز ٹوٹ گئی۔
بوڑھے نے دیر تک اسے دیکھا۔ایسے جیسے
چہرہ نہیں، اندر کا آدمی پڑھ رہا ہو۔
"اپنی
بھوک مٹانے کے لیے دوسرے کے منہ کا نوالہ چھین لینا درست ہے؟"
وہ خاموش رہا۔
پھر دھیرے سے بولا: "جب آدمی کے
پاس ہارنے کو کچھ نہ بچے تو وہ خطرہ مول لیتا ہے۔ میں نے بھی ایک بازی کھیلی
تھی... ہار گیا۔"
بوڑھے کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ
ابھری۔ "کم از کم سچ
بولتے ہو۔"
پھر اس نے تھیلے واپس لیے اور کہا: "چلو میرے
ساتھ۔"
(2)
اس دن اس نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔
دال، چاول اور روٹی۔ وہ ہر لقمہ اس طرح کھا رہا تھا جیسے زندگی دوبارہ مل گئی ہو۔
کھانے کے بعد جب آنکھ لگی تو برسوں
کی تھکن ایک ساتھ ٹوٹ کر اس پر گری۔
جب بیدار ہوا تو شام کا سایہ کمرے
میں اتر رہا تھا۔ بوڑھا سامنے بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔اس نے ایک سگریٹ اس کی طرف
بڑھا دی۔ دونوں کچھ دیر خاموش دھواں اڑاتے رہے۔ پھر بوڑھا بولا: "عزت چاہیے؟
دولت؟ شہرت؟"
"نہیں۔"
"پھر؟"
"بس اتنا
کہ میں اور میری ماں بھوکے نہ سوئیں۔"
بوڑھا اٹھا۔ الماری کھولی۔نوٹوں کی
گڈی نکال کر میز پر رکھ دی۔ ایک لاکھ روپے۔ اس کی سانس رک گئی۔
زندگی میں اتنی رقم اس نے ایک ساتھ
کبھی نہیں دیکھی تھی۔
"یہ
تمہارے ہیں۔"
"بدلے
میں؟"
بوڑھے نے عینک درست کی۔
"ایک بریف
کیس ایک جگہ رکھ آنا ہے۔"
خاموشی۔
"اس میں
کیا ہے؟"
"یہ سوال
تمہارے کام کا نہیں۔" لیکن
وہ سمجھ گیا تھا۔
کچھ سوال جواب مانگتے نہیں، خود جواب
بن جاتے ہیں۔ اس نے بوڑھے کی طرف دیکھا۔
"اس میں
بم ہے نا؟" بوڑھا
مسکرایا۔
"تم واقعی
عقل مند ہو۔"
"تو پھر
یہ بھی کسی کے منہ کا نوالہ چھیننا ہوا۔"
"نہیں۔"
"کیسے؟"
"یہ دنیا
طاقتوروں کی ہے۔ جو لیتا ہے وہ جیتتا ہے۔ جو سوچتا رہتا ہے وہ بھوکا مرتا ہے۔"
وہ خاموش ہو گیا۔
بوڑھا بولتا رہا۔
الفاظ جیسے آہستہ آہستہ زہر بن کر اس
کے اندر اتر رہے تھے۔
حق۔ ترقی۔ موقع۔ کامیابی۔ بھوک۔ ماں۔
ہر لفظ ایک ہتھوڑے کی طرح۔
آخرکار اس نے سر جھکا لیا۔
"میں کر
دوں گا۔"
بوڑھے کے چہرے پر اطمینان پھیل گیا۔
"شاباش۔"
(3)
شام ڈھل چکی تھی۔مگر شہر ابھی روشن
تھا۔ بس اسٹاپ لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔
دفتر سے لوٹتے مرد۔اسکول بیگ اٹھائے
بچے۔تھکی ہوئی عورتیں۔ بوڑھے۔ نوجوان۔ زندگیاں۔ بہت سی زندگیاں۔
وہ ہجوم کے کنارے کھڑا تھا۔ ہاتھ میں
بریف کیس تھا۔
جیب میں ایک لاکھ روپے۔اور دل میں
ایک شور۔
اسے ماں یاد آئی۔وہ دن یاد آیا جب
بخار میں جلتے ہوئے اس کے سرہانے بیٹھی رہی تھی۔ وہ رات یاد آئی جب اپنی دوائی
چھوڑ کر اس کے لیے دوا خریدی تھی۔اسے بوڑھے کے الفاظ بھی یاد آئے۔ "اپنا حق چھیننا پڑتا ہے۔"
اس نے ہجوم کی طرف دیکھا۔ پھر اپنے
ہاتھ کی طرف۔ پھر آسمان کی طرف۔
ایک لمحے کو یوں لگا جیسے دنیا سانس
روکے کھڑی ہو۔ اگلے ہی لمحے ایک خوفناک دھماکہ ہوا۔آگ کا ایک شعلہ فضا میں لپکا۔ لوگ
چیخے۔ شیشے ٹوٹے۔ دھواں پھیل گیا۔ اور زمین پر گوشت، خون اور کپڑوں کے ٹکڑے بکھر
گئے۔ مگر ریموٹ اس کے ہاتھ میں نہیں تھا۔ بریف کیس بھی اس کے ہاتھ میں ہی تھا۔ وہ
خود بھی انہی ٹکڑوں میں شامل ہو چکا تھا۔
دور کہیں ایک بوڑھا آدمی بھیڑ کے
پیچھے کھڑا دھواں اٹھتے دیکھ رہا تھا۔اس کے چہرے پر نہ افسوس تھا، نہ غصہ۔ صرف ایک
ہلکی سی مسکراہٹ۔جیسے اس نے ایک اور مہرہ استعمال کر کے پھینک دیا ہو۔ اور بہت دور
ایک گاؤں میں، ایک بوڑھی ماں حسبِ معمول شام کی چوکھٹ پر بیٹھی اپنے بیٹے کے آنے
کا انتظار کر رہی تھی۔ اسے ابھی خبر نہیں تھی کہ شہر نے اس کا سہارا نہیں چھینا۔ اس
کے خواب بھی جلا دیے ہیں۔
ـــــــــــــــــ
مشکل الفاظ کے معنی:
صبحِ
کاذب: فجر سے پہلے
نمودار ہونے والی ہلکی سفیدی
رہزنی: ڈکیتی، راہ چلتے لوگوں کو لوٹنا
معاوضہ: بدلہ، اجرت
استحصال: ناجائز فائدہ اٹھانا
مہرہ: کسی مقصد کے لیے استعمال ہونے والا شخص
ہمارے ادبی سفر کا حصہ بنیں! اگر آپ کو یہ افسانہ پسند آیا ہے اور آپ آئندہ بھی ایسی تحریریں پڑھنا چاہتے ہیں، تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے ہمارا واٹس ایپ چینل ضرور جوائن کریں: 🔗
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
.png)
اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: